best sad poetry in urdu 2024
فیض احمد فیض
کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہے
جن باتوں کو خود نہیں سمجھے، اوروں کو سمجھایا ہے
پروین شاکر
کبھی خوشی کی چاہ میں، یوں مر گئے پروین
جیسے کوئی چراغ ہو، طوفان کے لیے
احمد فراز
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
محسن نقوی
اداس لوگ، اداس ہیں، فضا اداس ہے
دلوں میں کوئی حسرت، رہی نہ کوئی آس ہے
منیر نیازی
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمیں کہیں آسمان نہیں ملتا
ناصر کاظمی
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی، اب یاد آیا
غزل:
کچھ اس طرح سے میری زندگی کو اس نے موڑا ہے
اپنے راستے سے ہٹا کر دل میرا توڑا ہےشعر:
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو بار لوٹا گیاشعر:
یہ رشتے بھی نایاب ہوتے جا رہے ہیں
جس کو چاہو وہ خواب ہوتے جا رہے ہیںشعر:
ایک عرصے تک ہم یوں ہی ستائے گئے
زندگی کے سفر میں بے وفا بنائے گئےشعر:
غم ہجر کی رات کا کیا ذکر کریں
یہ وہ درد ہے جو آنکھوں سے بیان ہوتا ہےشعر:
زندگی بھی کچھ اس طرح سے گزری ہے
جیسے ہم کسی اور کے بنائے ہوئے ہیں1.
کتنی تنہا ہو گئی ہیں یہ راتیں تم جو نہیں ہو تو دن بھی کاٹے ہیں
2.
ہم نے مانا کہ محبت ہی ہماری زندگی تھی پر تمہارے بغیر یہ دنیا بھی پرائی لگتی ہے
3.
دل کی ہر دھڑکن میں تمہارا نام آیا پھر بھی تم نے ہمیں نہ یاد کیا
4.
تمہاری یادیں بھی ہمیں بہت ستاتی ہیں رات کو جب تنہائی ہمیں رلاتی ہے
5.
رہتا نہیں اب دل کسی اور کی چاہت میں یہ دل تو تمہارے ساتھ ہی دفن ہو گیا ہے
کتنی بےچین ہو جاتی ہیں یہ راتیں جب تیری یادوں کی کہانیاں سناتی ہیں
دل کی ہر دھڑکن میں تیرا ہی نام آیا پھر بھی کیوں تُو نے ہمیں نہ یاد کیا
ہم نے مانا کہ محبت ہی ہماری زندگی تھی پر تیرے بغیر یہ دنیا بھی پرائی لگتی ہے
تنہا تنہا یہ راتیں ہمیں رلاتی ہیں تیرے بغیر ہم جینے کی عادت بھول جاتے ہیں
تیرے بغیر یہ چاند بھی مدھم سا لگتا ہے تیری مسکان کے بغیر یہ جہاں بھی ادھورا سا لگتا ہے
تیرے بغیر یہ زندگی ایک سزا بن گئی ہے تیرے بغیر ہر لمحہ اک قید کی طرح لگتا ہے
تم سے بچھڑ کر ہمیں یہ دنیا بھی اجنبی لگتی ہے تیری یادیں ہمیں رات بھر رونے پر مجبور کرتی ہیں
تیری محبت میں ہم نے سب کچھ کھو دیا اب تیری یادوں کے سہارے ہی جیتے ہیں
تیرے بغیر ہر لمحہ ایک صدی کی طرح لگتا ہے تیری جدائی میں ہر رات ایک قیامت سے کم نہیں
دل کی ویرانیاں تمہاری یادوں سے آباد ہیں پر یہ خوشی کی بجائے ایک درد کا احساس دلاتی ہیں
تمہارے بغیر یہ دل بھی اب نہیں دھڑکتا یہ تو بس تمہاری یادوں کے سہارے ہی زندہ ہے
ہر لمحہ تیرے بغیر کاٹنا مشکل ہو گیا ہے تمہاری جدائی نے ہمیں زندگی سے بیگانہ کر دیا ہے
تمہارے بغیر ہر خواب ادھورا سا لگتا ہے یہ زندگی اب بس تمہاری یادوں کے سہارے ہے
ہر پل تیری یادیں ہمیں بے چین کرتی ہیں تیرے بغیر یہ دل بھی ویران سا لگتا ہے
تیرے بغیر یہ دنیا بھی ایک قید خانہ لگتی ہے تیرے بغیر ہر خوشی بے معنی سی لگتی ہے
تمہاری جدائی نے ہمیں بہت رلایا ہے یہ دل اب تمہارے بغیر جینے سے انکاری ہے
تیرے بغیر ہر لمحہ ایک بوجھ سا لگتا ہے یہ دل اب تمہاری یادوں میں کھویا رہتا ہے
ہر رات تیرے بغیر تنہا گزر جاتی ہے تیرے بغیر یہ دل بھی اب کچھ نہیں کہتا
تیرے بغیر یہ زندگی ایک سزا سی لگتی ہے تیرے بغیر ہر لمحہ ادھورا سا لگتا ہے
تیرے بغیر یہ دل بھی اب نہیں دھڑکتا یہ تو بس تمہاری یادوں کے سہارے ہی زندہ ہے
Comments
Post a Comment